منگلورو:16/اپریل(ایس اؤنیوز)پولس ظلم کا شکار ہوکر اسپتال میں زیر علاج احمد قریشی کے اسپتال کا خرچ کس نے ادا کیا ہے اس کا جواب بھی تک حل طلب ہے۔ اتوار کو اپنے دفترمیں منعقدہ پریس کانفرنس میں پولس کمشنر چندرشیکھر سے اس سلسلے میں پوچھا گیاتو انہوں نے بتایا کہ قریشی کے اسپتال کا خرچ کس نے ادا کیا ہے اُنہیں معلوم نہیں ہے ، قریشی کا معاملہ اس وقت اسپتال، جیل اور عدالت کے درمیان چل رہاہے، ہمارا کام صرف کورئیر کی طرح ہے۔
قریشی کی صحت اب بالکل ٹھیک ہے، ہم نے ڈاکٹروں سے اس کی تصدیق کرالی ہے، لیکن کچھ شرپسند عناصر سوشیل نیٹ ورک پر قریشی کی صحت کو لے کر غلط جانکاری دینے کی بات کہتے ہوئے بے اطمینانی کا اظہار کیا۔
پریس کانفرنس میں پولس کمشنر حدود میں بیٹ کے نئے نظام کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ کمشنریٹ کےحدود میں کل 480بیٹ مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ہر ایک بیٹ پر ایک پولس کا عملے کو نامزد کیا گیا ہے، جو بیٹ کے دائرے میں آنے والے علاقہ کے 50لوگوں سے رابطہ میں رہتے ہوئے ہفتہ میں ایک مرتبہ میٹنگ انعقاد کرنے کی بات کہی۔ جس پولس عملے کو بیٹ پر نامزد کیا گیا ہے، وہاں کی نگرانی اس کی ذمہ داری ہوگی ، یعنی بیٹ علاقہ کے سمنس، وارنٹ، قانونی نظام ، جرائم کی روک تھام کی مکمل زمہ داری ان کی رہے گی۔ ضرورت پڑنے پر ایس آئی یا اے ایس آئی کا تعاون لیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں ڈی سی پی ڈاکٹر سنجیو پاٹل ، منگلورو شمال کے اے سی پی راجیندر موجود تھے۔